جاوید خان مہمند 

 

پشاور میں زیرِ زمین پانی کے بے تحاشا اخراج اور قدرتی ری چارج کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق نے شہر کے آبی مستقبل کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

 

 ایک جامع تحقیقی رپورٹ کے مطابق پشاور کے مطالعہ شدہ علاقے میں زیرِ زمین پانی کا مجموعی اخراج 166.4 ملین گیلن یومیہ تک پہنچ گیا ہے، جو رپورٹ میں بیان کردہ محفوظ حد 22.92 ملین گیلن یومیہ سے سات گنا سے بھی زیادہ ہے، جبکہ زیرِ زمین پانی کی سطح میں اوسطاً 1.45 میٹر سالانہ کمی واقع ہو رہی ہے۔ موجودہ رجحانات برقرار رہے تو 2050ء تک شہر کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

زیرِ زمین پانی پر بڑھتا انحصار

 

یہ انکشاف ’ٹیکنیکل رپورٹ آن گراؤنڈ واٹر ماڈلنگ – گراؤنڈ واٹر سٹڈی آف پشاور‘ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پشاور کی تقریباً 90 فیصد گھریلو اور میونسپل پانی کی ضروریات زیرِ زمین آبی ذخائر سے پوری ہوتی ہیں۔

 یہ آبی ذخائر مٹی، ریت، بجری اور بولڈرز پر مشتمل تہوں میں 300 میٹر سے زائد گہرائی تک پھیلے ہوئے ہیں۔ 

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال سے نومولود بچہ مبینہ طور پر اغوا

 

آبادی میں تیز رفتار اضافہ، شہری پھیلاؤ، صنعتی سرگرمیوں اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث زیرِ زمین پانی پر انحصار میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں قدرتی ری چارج اور پانی کے اخراج کے درمیان توازن متاثر ہو رہا ہے۔

 

 

یہ رپورٹ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن انفراسٹرکچر پلاننگ، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور نے واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور کے لیے تیار کی ہے۔ منصوبے کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) پاکستان نے فنڈ کیا ہے، جبکہ رپورٹ کو اگست 2026ء میں حتمی شکل دی گئی۔

 

پانی کے اخراج کا ماڈلنگ کے ذریعے جائزہ

 

رپورٹ میں زیرِ زمین پانی کے اخراج کا جائزہ لینے کے لیے سرکاری، نیم سرکاری، کمرشل اور نجی ٹیوب ویلز اور بورہولز سے متعلق معلومات گراؤنڈ واٹر ماڈل میں شامل کی گئی ہیں۔ اس ماڈل میں مجموعی طور پر 1,413 ٹیوب ویلز اور بورہولز کا ڈیٹا شامل ہے۔

 

 

واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی) کے زون A، B، C، D اور E میں مجموعی طور پر 535 ٹیوب ویلز کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کے 76 اور ریگی ماڈل ٹاؤن کے 18 ٹیوب ویلز شامل کیے گئے، جبکہ کینٹونمنٹ بورڈ پشاور کے علاقے میں موجود 44 ٹیوب ویلز کا ڈیٹا بھی مطالعے کا حصہ بنایا گیا۔

 

متعلقہ ٹیوب ویلز کا ڈیٹا ڈبلیو ایس ایس پی، پی ڈی اے اور کینٹونمنٹ آفس کے ریکارڈ سے حاصل کیا گیا، جبکہ ڈبلیو ایس ایس پی کے دائرہ اختیار میں موجود کمرشل اور نجی بورہولز کا ڈیٹا بھی گراؤنڈ واٹر ماڈلنگ میں شامل کیا گیا۔

 

 

رپورٹ کے مطابق کمرشل اور نجی بورہولز کی تعداد بہت زیادہ ہونے کے باعث ماڈلنگ کو آسان بنانے اور ڈیٹا کی تکرار سے بچنے کے لیے انہیں ہر ماڈل گرڈ سیل میں ایک نمائندہ ٹیوب ویل کی صورت میں یکجا کیا گیا۔ اس طریقہ کار کے نتیجے میں مطالعے کے علاقے میں مجموعی طور پر 1,413 ٹیوب ویلز کو گراؤنڈ واٹر ماڈل میں شامل کیا گیا۔

 

سال 2025ء کے لیے کیے گئے گراؤنڈ واٹر ابسٹرکشن اسیسمنٹ، یعنی زیرِ زمین پانی کے اخراج کے مطالعے کے مطابق، زیرِ زمین پانی کا مجموعی اخراج 166.4 ملین گیلن یومیہ تخمینہ لگایا گیا، جبکہ زیرِ زمین پانی کی سطح میں اوسط کمی 1.45 میٹر فی سال ریکارڈ کی گئی۔

 

مشرقی اور شمال مشرقی علاقوں میں زیرِ زمین پانی پر دباؤ

 

رپورٹ کے تیار کردہ گراؤنڈ واٹر ماڈل سے ظاہر ہوتا ہے کہ پشاور میں زیرِ زمین پانی کا بہاؤ عمومی طور پر جنوب مغرب اور مغرب سے مشرق اور شمال مشرق کی جانب ہے۔

 

 

شہر کے مشرقی اور شمال مشرقی حصوں، بالخصوص زون A، B اور E کو ہائی سٹریس زونز قرار دیا گیا ہے، جہاں زیرِ زمین پانی کی سطح میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس زون D اور ریگی ماڈل ٹاؤن میں زیرِ زمین پانی کے ری چارج کی نسبتاً بہتر صلاحیت پائی گئی ہے۔

 

 رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 0 سے 25 میٹر تک زیرِ زمین پانی کی سطح والے علاقوں میں ری چارج کے امکانات زیادہ ہیں، جبکہ 50 سے 160 میٹر گہرائی والے علاقوں میں ری چارج کی صلاحیت بہت کم ہے۔

 

 

 شہری پھیلاؤ، کنکریٹ اور دیگر ناقابلِ نفوذ سطحوں میں اضافے کے باعث بارش کا پانی زمین میں جذب ہونے کے بجائے سطحی بہاؤ کی صورت میں ضائع ہو جاتا ہے، جس سے قدرتی ری چارج مزید متاثر ہوتا ہے۔

 

پانی کی طلب میں اضافے کا امکان

 

رپورٹ میں آبادی میں متوقع اضافے کے باعث پانی کی طلب میں نمایاں اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ اندازے کے مطابق پانی کی طلب 135 ملین گیلن یومیہ سے بڑھ کر 274.6 ملین گیلن یومیہ تک پہنچ سکتی ہے، جس سے زیرِ زمین آبی ذخائر پر دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ 

 

 

رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ اخراج اور مستقبل میں بڑھنے والی طلب کے مقابلے میں پانی کے استعمال، پمپنگ اور ری چارج کا مؤثر انتظام نہ کیا گیا تو زیرِ زمین پانی کے ذخائر پر دباؤ مسلسل بڑھتا رہے گا۔

 

موسمیاتی تبدیلی اور زیرِ زمین پانی

 

موسمیاتی تبدیلی کو پشاور کے زیرِ زمین پانی کے مستقبل کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے کے نتیجے میں تبخیر کے عمل میں تقریباً 5 سے 7 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے پانی کی دستیابی اور قدرتی ری چارج کے امکانات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

 

 

 رپورٹ کے مطابق پشاور میں اوسط سالانہ بارش تقریباً 400 ملی میٹر ہے، تاہم اس کا صرف 12 سے 18 فیصد حصہ زیرِ زمین پانی کے ری چارج میں شامل ہوتا ہے۔ مستقبل میں مؤثر ری چارج کی مقدار کم ہو کر تقریباً 25.8 ملی میٹر سالانہ رہ جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس سے زیرِ زمین پانی کے ذخائر پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

 

ری چارج اور اخراج میں توازن کی ضرورت

 

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن انفراسٹرکچر پلاننگ کے ڈائریکٹر پروفیسر رشید ریحان نے کہا ہے کہ اس مطالعے کا دائرہ کار محدود تھا اور بنیادی مقصد پشاور میں زیرِ زمین پانی کی میپنگ اور اس کے جائزے کے ذریعے ری چارج اور اخراج کی درست صورتحال کو سمجھنا تھا۔

 

 

 انہوں نے اس مطالعے کو پشاور کے زیرِ زمین پانی کے حوالے سے اپنی نوعیت کا پہلا سائنسی مطالعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے شہر کے زیرِ زمین پانی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں سائنسی بنیاد اور بنیادی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

 

سوالات کے جواب میں پروفیسر رشید ریحان نے کہا کہ پشاور کے میٹروپولیٹن علاقے میں کم لاگت کے اقدامات کے ذریعے زیرِ زمین پانی کا ری چارج بڑھایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق صرف ری چارج میں اضافہ کافی نہیں بلکہ غیر ضروری زیرِ زمین پانی کے اخراج اور پمپنگ کو کنٹرول کرنا بھی ضروری ہے۔

 

 

انہوں نے حکومت کی عمارتوں، سڑکوں کے اطراف اور دیگر موزوں مقامات پر ری چارج کے عملی اقدامات کرنے پر زور دیا تاکہ بارش کے پانی کو سطحی بہاؤ کی صورت میں ضائع ہونے کے بجائے زمین میں جذب کرکے زیرِ زمین آبی ذخائر کو ری چارج کیا جا سکے۔

 

 پروفیسر رشید ریحان نے کہا کہ پشاور میں زیرِ زمین پانی کے ری چارج اور اخراج کے درمیان ایک بڑا فرق موجود ہے، جسے کم کرنے کے لیے متوازن حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ اس حکمتِ عملی میں ری چارج میں اضافہ، غیر ضروری اخراج میں کمی اور زیرِ زمین پانی کے استعمال کی مؤثر نگرانی شامل ہونی چاہیے۔

 

ڈبلیو ایس ایس پی کے جنرل منیجر پلاننگ سید ضمیر الحسن نے کہا کہ یہ گراؤنڈ واٹر اسٹڈی ڈبلیو ایس ایس پی کی جانب سے کرائی گئی ہے اور صوبے میں اپنی نوعیت کی پہلی جامع تحقیق ہے، جس میں پانی کے تحفظ، ضیاع کی روک تھام اور بہتر انتظام و انصرام سمیت موجودہ اور مستقبل کی ضروریات اور تقاضوں سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور اس حوالے سے سفارشات مرتب کی گئی ہیں۔

 

 

انہوں نے بتایا کہ زیرِ زمین پانی کے ری چارج کے لیے خیبر پختونخوا حکومت نے ایک اسکیم تیار کی ہے، جس پر پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) عملدرآمد کرے گی۔ منصوبے کے تحت پارکوں میں صاف پانی کے ذریعے زیرِ زمین پانی کے ری چارج کا انتظام کیا جائے گا۔

 

سید ضمیر الحسن کے مطابق گراؤنڈ واٹر ریگولیشن کے لیے صوبائی حکومت محکمہ آبپاشی کے تحت پہلے ہی ایک ریگولیٹری اتھارٹی قائم کر چکی ہے، جو زیرِ زمین پانی کے استعمال اور اس سے متعلق دیگر معاملات کی نگرانی کرے گی۔

 

سید ضمیر الحسن نے کہا کہ ڈبلیو ایس ایس پی اپنے مینڈیٹ کے اندر رہتے ہوئے پانی کے ضیاع کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انتظامی اقدامات کے ساتھ ساتھ شہریوں میں پانی کی اہمیت، اس کے محتاط استعمال اور ضیاع سے بچاؤ کے حوالے سے شعور و آگاہی بھی پیدا کی جا رہی ہے۔