پشاور میں  پی ٹی آئی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی 4 اکتوبر کو جنوبی اضلاع سے پی ٹی آئی لانگ مارچ کی قیادت کریں گے، جبکہ تمام قافلے صوابی پہنچیں گے جہاں وزیراعلیٰ آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے۔

 

شوکت یوسفزئی کے مطابق جنوبی ریجن کا قافلہ 7 اکتوبر کو صبح 11 بجے پشاور سے صوابی روانہ ہوگا، جبکہ ملاکنڈ ڈویژن کا قافلہ جنید اکبر خان کی قیادت میں 8 اکتوبر کو چکدرہ سے روانہ ہوگا۔

 

انہوں نے بتایا کہ شانگلہ، کوہستان سمیت ہزارہ ڈویژن کے قافلے سی پیک کے راستے صوابی پہنچیں گے، جبکہ چارسدہ، نوشہرہ، مردان، مہمند اور ملاکنڈ ڈویژن کے قافلے بھی 8 اکتوبر کو مرکزی قافلے میں شامل ہوں گے۔

 

یہ بھی پڑھیے: سوات: زمین کے تنازع پر فائرنگ، باپ بیٹا اور خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق

 

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کی تیاریاں بھرپور انداز میں مکمل کرلی گئی ہیں، جبکہ ٹرانسپورٹ، کھانے پینے اور دیگر انتظامات پہلے سے کئی گنا بہتر ہیں۔

 

 

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ پرامن ہوگا، کارکن کسی قسم کا اسلحہ، غلیل، ڈنڈے یا پتھر ساتھ نہ لائیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور جنید اکبر خان نے بھی کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت کی ہے۔

 

صوبائی سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور ہماری جدوجہد آئینی ہے۔ حکومت کو عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔

 

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی ختم کرنے کا حکم دیا ہے، تاہم حکومت عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کر رہی۔

 

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ آئینی مطالبات تسلیم ہونے اور عمران خان کی بہنوں کی رہائی تک لانگ مارچ ملتوی نہیں ہوگا، ’’بال حکومت کے کورٹ میں ہے، فیصلہ حکومت نے کرنا ہے۔‘‘

 

انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش مشکلات کے پیش نظر حکومت کو لچک دکھانا ہوگی۔ دہشت گردی بہت بڑا مسئلہ ہے، اس کا الزام صوبے پر ڈالنا زیادتی ہے، جبکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق کو صوبے کے ساتھ بیٹھ کر پالیسی بنانا ہوگی۔

 

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر بلیم گیم کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ گورنر راج یا ایمرجنسی مسائل کا حل نہیں، صوبے میں ایسا کوئی اقدام کیا گیا تو خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، جبکہ بہت سے وفاقی وزراء آگ پر تیل ڈالنے کا کام کر رہے ہیں۔