عظمیٰ اقبال
گزشتہ چند دنوں سے وادی تیراہ کے حالات میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں، جن میں بند راستے، شدید ٹھنڈا موسم، خوف اور غیر یقینی صورتحال نمایاں ہیں۔ یہ محض ایک دور افتادہ وادی کی خبر نہیں تھی بلکہ ایک ایسا منظر تھا جو دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالنے والا محسوس ہوا، جیسے وقت نے خود کو دہرا دیا ہو۔
وادی تیراہ کو دیکھتے ہوئے میرا ذہن لاشعوری طور پر سوات کی طرف چلا گیا، جہاں برسوں پہلے مسلح تصادم نے ایک پورے علاقے کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ میں اُس وقت صرف چھ سال کی تھی اور جنگ کو میں نے کسی تاریخی واقعے کے طور پر نہیں بلکہ شدید خوف اور بے چینی کے طور پر محسوس کیا، خاموشیوں میں، بڑوں کی باتوں میں اور ہر آنے والی خبر کے ساتھ دل میں بیٹھ جانے والی گھٹن میں۔
یہ بھی پڑھیں: تیراہ آپریشن کا فیصلہ کس نے کیا؟ امیر حیدر ہوتی نے وضاحت کر دی
اگرچہ سوات میں مسلح تصادم کا خاتمہ 2009 میں ہو گیا، مگر جنگ کے اثرات آج بھی زندہ ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنگ ختم ہو گئی ہے مگر خوف ابھی بھی لوگوں کے دل و دماغ میں چھایا ہوا ہے۔ یہ وہ پہلو ہے جس پر اکثر بات نہیں کی جاتی کہ جنگ کے بعد کی زندگی بھی ایک طویل اور کٹھن آزمائش ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ متاثر خواتین اور بچے ہوتے ہیں، جو خوف اور عدم تحفظ کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
آج وادی تیراہ کے حالات دیکھ کر حیرت صرف اس بات پر نہیں ہوتی کہ مشکلات موجود ہیں بلکہ اس پر ہوتی ہے کہ دس یا پندرہ سال گزرنے کے باوجود وہی مناظر دوبارہ سامنے آ رہے ہیں۔ پہلے بھی وادی تیراہ کے لوگوں نے 2013 میں گھر بار چھوڑ کر کیمپوں یا رشتہ داروں کے ہاں پناہ لی تھی اس امید کے ساتھ کہ اُن کے علاقے میں مستقل امن قائم ہو جائے گا۔ لیکن یہ ایک ایسا خواب تھا جو حقیقت سے بہت دور تھا۔
آج بھی نقل مکانی کے دوران وہی بند راستے، وہی غیر یقینی صورتحال اور وہی گھبراہٹ دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کچھ علاقے وقت میں آگے نہیں بڑھ پاتے بلکہ ایک ہی دائرے میں گھومتے رہتے ہیں۔
وادی تیراہ خیبر پختونخوا کے ان علاقوں میں شامل ہے جو جغرافیائی طور پر مشکل، موسمی طور پر سخت اور انتظامی طور پر اکثر نظر انداز رہے ہیں۔ یہاں کے لوگ دہائیوں سے عدمِ تحفظ، محدود سہولیات اور مسلسل بحرانوں کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔ حالیہ برفباری نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی کہ جب قدرتی آفت اور انسانی تنازع ایک ساتھ آ جائیں تو سب سے زیادہ بوجھ عام وگوں پر ہی پڑتا ہے۔
وادی تیراہ کے موجودہ حالات کو صرف ایک وقتی بحران کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔ اس کے پس منظر میں وہ سیکیورٹی صورتحال بھی شامل ہے جو 9/11 کے بعد قبائلی علاقوں میں اُبھری۔ اگرچہ یہاں مکمل جنگ جیسی صورتحال کم ہی رہی، مگر وقفے وقفے سے ہونے والی جھڑپیں، فوجی آپریشنز اور نقل مکانی نے لوگوں کی زندگی کو مستقل طور پر متاثر کیا ہے۔
سوات اور وادی تیراہ کے حالات جغرافیائی طور پر مختلف ہو سکتے ہیں مگر ان کی کہانی میں ایک گہری مماثلت موجود ہے۔ دونوں جگہ عام لوگ فیصلہ ساز نہیں تھے مگر سب سے زیادہ متاثر وہی ہوئے۔ بچوں نے کھیل کے میدانوں کی بجائے خوف کے سائے دیکھے اور خواتین نے اپنے خاندان کی حفاظت کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے اضافی ذمہ داریاں اٹھائی۔ دونوں جگہ امن کا مطلب صرف جنگ کا خاتمہ سمجھا گیا، زندگی کی بحالی نہیں۔
یہ سب کچھ ایک طرف لیکن جب مرکزی اور صوبائی حکومت کے سیاسی تناؤ میں وادی تیراہ کے حوالے سے جو بیانات سامنے آتے ہیں تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں پر انسانی بحران کو سمجھنے کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہزاروں خاندان موت اور زندگی کے کشمکش میں مبتلا ہیں لوگ بے آسرا ہیں انہیں سیاست دانوں کی بیان بازی کی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
وادی تیراہ سے بے گھر خاندانوں کے لیے ریاستی سطح پر امدادی کارروائیاں اور سیکیورٹی اقدامات ضروری ہیں لیکن مستقل حل تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور ذہنی بحالی کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر کسی علاقے کو بار بار صرف سیکیورٹی کے زاویے سے دیکھا جائے تو وہاں کے معاشرتی مسائل جوں کے توں رہ جاتے ہیں۔ وادی تیراہ آج اسی مرحلے پر کھڑی نظر آتی ہے جہاں سوات برسوں پہلے کھڑا تھا۔
سوال یہ نہیں کہ جنگ کیوں ہوتی ہے بلکہ یہ ہے کہ جنگ کے بعد زندگی کو دوبارہ کیوں نہیں سنوارا جاتا۔ اگر ہر چند سال بعد وہی مناظر لوٹ آئیں تو امن ایک مستقل حالت نہیں بلکہ ایک مختصر وقفہ بن جاتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
