پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) پشاور کو 9 کروڑ روپے کی ادائیگی میں تاخیر کر دی ہے، حالانکہ یونیورسٹی نے اپنا کام مکمل کر دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق، 2022 میں پیسکو نے سکیل 5 سے 17 تک بھرتیوں کے لیے ٹیسٹ کا انتظام یو ای ٹی پشاور کے سپرد کیا۔ اس ٹیسٹ میں 24 کیٹگریز شامل تھیں اور تقریباً 1 لاکھ 75 ہزار امیدوار شریک ہوئے۔ یونیورسٹی نے مرحلہ وار ٹیسٹ کا عمل مکمل کیا اور نتائج پیسکو کو فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: 2010 کے بعد بھرتیاں نہ ہونے سے پیسکو سمیت بجلی کی کمپنیوں میں ہزاروں
ٹیسٹ کے اختتام پر وزارت پانی و بجلی نے بھرتیوں پر چھ ماہ کی پابندی لگا دی، تاہم بعد میں ایس ڈی او کے لیے انٹرویوز کی اجازت دی گئی اور امیدوار بھرتی کر لیے گئے۔
یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی نے اپنا کام پوری ایمانداری اور درست طریقے سے انجام دیا، اور پیسکو نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ ٹیسٹ اور نتائج کی ذمہ داری یونیورسٹی نے بخوبی نبھائی۔ اس کے باوجود پیسکو نے اب تک رقم ادا نہیں کی، جو کہ یونیورسٹی کے لیے سمجھ سے بالاتر ہے۔
یونیورسٹی نے رقم وصول کرنے کے لیے لوئر کورٹ سے رابطہ کیا ہے، جہاں کیس زیر التوا ہے۔ وزارت پانی و بجلی نے مسئلہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں اٹھانے کی ہدایت کی ہے، اور بی او ڈی نے ادائیگی کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ پیسکو یو ای ٹی پشاور کو کب رقم ادا کرے گا۔
