میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن (ایم ٹی آئی) بنوں کے معاملات پر پاکستان تحریک انصاف اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی۔
انصاف یوتھ ونگ کے رہنماؤں نے ڈاکٹروں اور ایم ٹی آئی انتظامیہ پر کرپشن، مالی بے ضابطگیوں، ہسپتالی مشینری میں مبینہ خردبرد، نجی کلینکس کے فروغ اور مریضوں کو طبی سہولیات سے محروم رکھنے کے سنگین الزامات عائد کر دیے۔
بنوں پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انصاف یوتھ ونگ کے رہنما نیک رحمان، فرحان خان اور دیگر نے کہا کہ 13 سال بعد ہسپتالوں کے نظام کی اصلاح کے لیے عملی اقدامات شروع کیے گئے ہیں، تاہم مفادات سے وابستہ عناصر اس عمل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے:سونا مزید مہنگا، فی تولہ قیمت میں بڑا اضافہ
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض ڈاکٹرز سرکاری ہسپتالوں میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے نجی کلینکس کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے باعث مریضوں کو بروقت علاج میسر نہیں آتا۔ ان کے مطابق متعدد حادثات میں زخمی افراد کو بروقت طبی امداد نہ ملنے سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ معطل کیے جانے والے سابق میڈیکل ڈائریکٹر کے خلاف شکایات اور انکوائری درخواستوں کے بعد کارروائی عمل میں آئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق ایم ڈی کے خلاف الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
پریس کانفرنس میں ہسپتال کی مشینری اور طبی آلات سے متعلق بھی سنگین الزامات سامنے لائے گئے۔ رہنماؤں کے مطابق قیمتی طبی آلات میں معمولی خرابیوں کو بنیاد بنا کر مرمت کے نام پر لاکھوں روپے کے بل بنائے جاتے رہے جبکہ بعض مشینوں کو مبینہ طور پر جان بوجھ کر غیر فعال رکھا گیا تاکہ مریض نجی مراکز سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ 2014 سے موجود بعض مشینوں کو نئے اسٹیکرز لگا کر نئی ظاہر کیا جاتا رہا۔
انہوں نے کہا کہ خلیفہ گل نواز ہسپتال کی ایم آر آئی مشین 2019 سے خراب پڑی ہے جبکہ اس کی مرمت پر آنے والے اخراجات بھی برداشت نہیں کیے جا رہے، جس کے باعث مریض نجی مراکز سے ہزاروں روپے خرچ کرکے ایم آر آئی کروانے پر مجبور ہیں۔
رہنماؤں نے صحت کارڈ پروگرام میں بھی مبینہ کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ادویات اور طبی سامان کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ظاہر کرکے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ ایم ٹی آئی انتظامیہ کو بھاری مراعات حاصل ہیں، تاہم اہم طبی منصوبوں اور سہولیات کے لیے فنڈز دستیاب نہیں۔ ان کے مطابق بنوں کے سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ مریض علاج کے لیے پشاور جانے پر مجبور ہیں۔
ملازمتوں کے حوالے سے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایم ٹی آئی میں روزگار کے مواقع بنوں ڈویژن کے مقامی افراد کو ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد مقامی ملازمین کو بھی ملازمتوں سے فارغ کیا گیا ہے۔
نرسنگ ہاسٹل سے متعلق الزامات کا جواب دیتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ وہ غیر مسلح تھے اور صرف سابق ایم ڈی سے ملاقات کے لیے گئے تھے۔ ان کے مطابق اگر مذکورہ عمارت نرسنگ ہاسٹل تھی تو وہاں ایم ڈی کی رہائش کے حوالے سے بھی سوالات اٹھتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال کو صوبائی حکومت کے حوالے کیا جائے جبکہ خلیفہ گل نواز ہسپتال اور ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال کو ایم ٹی آئی کے ماتحت رکھا جائے تاکہ دونوں نظاموں کی کارکردگی کا موازنہ کیا جا سکے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ بنوں کے ہسپتالوں میں اصلاحات اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
