پاک افغان طورخم بارڈر کی طویل بندش اور گزشتہ تقریباً دس ماہ سے پاک افغان تجارتی سرگرمیوں کی معطلی کے خلاف ضلع خیبر کے عوام، تاجروں، ٹرانسپورٹرز، کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس، مزدوروں اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے لنڈی کوتل بازار میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا۔

 

 مقررین نے خبردار کیا کہ اگر طورخم بارڈر فوری طور پر نہ کھولا گیا تو احتجاج کے اگلے مرحلے میں پاک افغان شاہراہ پر دھرنا دیا جائے گا۔

 

یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر اسمبلی انتخابات: خیبرپختونخوا میں کل کہاں کہاں پولنگ ہوگی؟

 

مقررین نے کہا کہ بارڈر کی بندش سے سرحدی علاقوں کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ہزاروں ٹرانسپورٹرز، کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس، مزدور، دکاندار اور دیگر کاروباری افراد بے روزگار ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد براہِ راست اور بالواسطہ معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

 

 ان کے مطابق متعدد خاندان فاقہ کشی جیسی صورتحال سے دوچار ہیں اور خیبرپختونخوا کی صنعت کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ تجارتی گزرگاہوں کی بندش کے باوجود دہشت گردی کے خاتمے کے حکومتی اہداف حاصل نہیں ہو سکے، جبکہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے امن و امان کی صورتحال پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

 

 ان کے مطابق تجارتی سرگرمیوں کی معطلی کے باعث قومی خزانہ اربوں روپے کی محصولات سے محروم ہو رہا ہے اور افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک تک پاکستان کی تجارتی رسائی بھی متاثر ہوئی ہے۔

 

مقررین نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاک افغان طورخم بارڈر سے متعلق موجودہ پالیسی پر فوری نظرِ ثانی کرتے ہوئے طورخم سمیت تمام تجارتی گزرگاہیں کھولی جائیں، تجارت اور آمدورفت بحال کی جائے اور سرحدی علاقوں کے عوام کو معاشی بحران سے نکالا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو احتجاج کے اگلے مرحلے میں پاک افغان شاہراہ بند کرکے دھرنا دیا جائے گا۔

 

احتجاجی جلسے سے چیئرمین شاہ خالد شینواری، کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر مجیب شینواری، باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر ہاشم خان آفریدی، امیر جماعت اسلامی شاہ فیصل آفریدی، عبدالرازق شینواری، آفتاب شینواری، طارق آفریدی، مولانا شعیب قادری، معراج الدین شینواری، جمعیت علمائے اسلام (باڑہ) کے امیر مفتی سعید، مراد حسین آفریدی، خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر واجد شینواری سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔