خیبرپختونخوا حکومت نے پولیس میں انوسٹی گیشن اور آپریشن ونگ کو مکمل طور پر الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے انوسٹی گیشن ونگ کو انتظامی اور مالی خودمختاری دی جائے گی۔

 

محکمہ داخلہ کے مطابق انوسٹی گیشن ونگ کو اے آئی جی سے ضلعی سطح تک الگ کمانڈ اسٹرکچر دیا جائے گا، جبکہ ضلعی، ریجنل اور صوبائی سطح پر الگ انوسٹی گیشن چین قائم کی جائے گی۔

 

یہ بھی پڑھیے: سوات: کبل پولیس اسٹیشن کے قریب خودکش دھماکا، 7 پولیس اہلکار شہید، 18 زخمی

 

محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے کرمنل جسٹس سسٹم میں شفافیت اور بہتری آئے گی، جبکہ کمزور تفتیش کے باعث کم سزا کی شرح کے مسئلے کو دور کرنے کے لیے اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔

 

صوبائی وزیر قانون بیرسٹر آفتاب عالم نے کہا کہ حکومت پراسیکیوشن سسٹم کو مزید مضبوط اور جوابدہ بنانے جا رہی ہے، جبکہ پراسیکیوشن کی ناقص کارکردگی پر ذمہ داری کا تعین بھی کیا جائے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ پولیس انوسٹی گیشن کو آپریشن ونگ سے مکمل انتظامی آزادی دی جائے گی، انوسٹی گیشن ونگ کو مالی اور انتظامی خودمختاری فراہم کی جائے گی، جبکہ پولیس ایکٹ ترمیمی بل کے مسودے کو جلد حتمی شکل دی جائے گی۔

 

بیرسٹر آفتاب عالم نے کہا کہ اصلاحات کے بعد ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ ان اصلاحات سے جرائم کی روک تھام، عوام کو بہتر انصاف کی فراہمی اور ملزمان کی بریت کی شرح کم کرنے کی بھی توقع ہے۔