پشاور کے علاقے ریگی میں پولیس مقابلے کے دوران تھانہ تہکال پر حملے سمیت متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب اختیار اللہ ولد نجیب اللہ اور نعمان عرف طورے ولد دلاور ہلاک ہوگئے، جبکہ ان کے دیگر ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس کے مطابق ہلاک ملزمان کے قبضے سے ایک کلاشنکوف، ایک ہینڈ گرنیڈ اور ایک پستول برآمد کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پولیس انوسٹی گیشن ونگ کو آپریشن ونگ سے الگ کرنے کا فیصلہ
پولیس کے مطابق اطلاع ملی تھی کہ تھانہ تہکال پر حملے میں ملوث اور متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب اشتہاری ملزمان عادل عرف عادلے، عاقب، شیردل پسران عالمگیر، اختیار اللہ اور نعمان پشاور کے علاقے ریگی میں موجود ہیں۔
اطلاع ملنے پر ڈی ایس پی ٹاؤن کی نگرانی میں ایس ایچ او تہکال، ٹاؤن پولیس، ایس ایچ او ریگی اور دیگر پولیس نفری نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے ان کے ممکنہ ٹھکانوں پر کارروائی کی، تاہم پولیس کے پہنچنے سے قبل ملزمان وہاں سے فرار ہو گئے۔
پولیس کے مطابق چھاپہ زنی سے واپسی کے دوران جب پولیس پارٹی ریگی قبرستان کے قریب پہنچی تو وہاں پہلے سے موجود ملزمان نے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں سرکاری پولیس پک اپ گاڑی گولیوں کی زد میں آکر نقصان کا شکار ہوگئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی کے دوران ملزمان کی فائرنگ ان کے اپنے ہی ساتھیوں کو لگی، جس کے نتیجے میں اختیار اللہ، سکنہ یونیورسٹی ٹاؤن، اور نعمان عرف طورے، سکنہ کالام حال تہکال بالا، ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر اشتہاری ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس کے مطابق ہلاک اور فرار ہونے والے ملزمان تھانہ تہکال پر حملے کے مقدمہ نمبر 769 مورخہ 28 جولائی 2026 اور تھانہ ریگی کے مقدمہ نمبر 514 مورخہ 3 اگست 2026 میں مطلوب تھے۔
پولیس نے ہلاک ملزمان کے قبضے سے ایک کلاشنکوف، ایک ہینڈ گرنیڈ اور ایک پستول برآمد کر لیا ہے، جبکہ فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
