باجوڑ: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا امن جرگہ سے خطاب، امن و ترقی پر زور
باجوڑ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے قومی امن جرگہ کے قائدین سے ملاقات کی اور خطے میں امن، استحکام اور قبائلی علاقوں کی ترقی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے قبائلی مشران کی جدوجہد قابل تحسین ہے اور حالات کو سنبھالنے کی ان کی دانشمندی قابل قدر ہے۔ ان کے مطابق امن سب سے پہلی ترجیح ہے، کیونکہ اس کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت دیرپا امن کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی اسمبلی کے فلور پر تمام سیاسی جماعتوں اور مکاتب فکر کے رہنماؤں نے متفقہ اعلامیہ پیش کیا، جس میں یہ طے پایا کہ آپریشن مسائل کا حل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ نے انفراسٹرکچر، اداروں اور نوجوانوں کو نقصان پہنچایا اور مزید بدامنی کے حالات برداشت نہیں کیے جا سکتے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اگر تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر پیشہ ورانہ فرائض انجام دیں تو نہ صرف مسائل کم ہوں گے بلکہ پائیدار امن بھی قائم ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ضم اضلاع کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا خصوصی قبائل پیکج لا رہے ہیں، جس میں صحت اور تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارے فوجی جوان، دیگر اداروں کے اہلکار اور عوام بے گناہ شہید ہو رہے ہیں، اور عوام کا کوئی قصور نہیں۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو امریکہ کو خوش کرنے کے لیے پالیسی بناتا ہے۔ غلط فیصلوں کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہو گیا، جبکہ جولائی سے اپریل تک قبائل کے لیے ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف پیسے نہیں دیے گئے اور دوسری طرف فوجی آپریشن کرکے لوگوں کو بے گھر کیا گیا، جبکہ عوام کے پیسوں سے بیرونِ ملک جائیدادیں خریدی گئیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حل صرف ایک ہے، جہاں بھی پالیسی بنتی ہے وہاں پر احتجاج کریں گے۔

مزید برآں، سہیل آفریدی نے باجوڑ کے لیے اہم ترقیاتی منصوبے بھی اعلان کیے:
باجوڑ میں یونیورسٹی کیمپس کا قیام
دیر موٹر وے اور سوات موٹر وے سے باجوڑ کو منسلک کرنا
ایک ہزار ارب روپے قبائل پر خرچ، جس میں 200 ارب صحت اور 200 ارب تعلیم پر مختص ہوں گے
باجوڑ نرسنگ کالج کو دوبارہ فعال کرنا، جو 2007 سے بند تھا۔
وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ سب سے پہلے امن کے لیے جدوجہد کی جائے گی، ترقی اور خوشحالی کی ذمہ داری ان کے ذمے ہوگی، اور امن کے لیے سب کو مل کر نکلنا ہوگا، کیونکہ یہ سب کا مشترکہ مقصد ہے۔
