ضلع خیبر کے تحصیل لنڈی کوتل میں افغان  پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کے عمل میں سست روی ایک افسوسناک واقعے کا سبب بن گئی، جہاں بھگیاڑی چیک پوسٹ پر طویل انتظار کے دوران ایک حاملہ افغان خاتون جاں بحق ہو گئی۔

 

ذرائع کے مطابق خاتون کا تعلق افغانستان کے صوبہ کندوز سے تھا اور وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کلیئرنس کے لیے موجود تھی۔ انتظار کے دوران خاتون کی طبیعت بگڑ گئی، وہ پہلے بے ہوش ہوئی اور بعد ازاں زچگی کے دوران جانبر نہ ہو سکی۔ تشویشناک حالت میں اسے ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جان کی بازی ہار گئی۔

 

مقامی افراد اور سماجی حلقوں نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بروقت طبی امداد اور تیز رفتار رجسٹریشن کا نظام موجود ہوتا تو قیمتی جان بچائی جا سکتی تھی۔

مبصرین کے مطابق یہ واقعہ حکومتی غفلت اور ناقص انتظامات کا عکاس ہے، جہاں بنیادی انسانی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں: لکی مروت: پولیس موبائل پر دھماکہ، سب انسپکٹر سمیت 4 افراد زخمی

 


 

دوسری جانب عوامی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور پناہ گزینوں کے لیے ہنگامی طبی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔

 

گزشتہ آٹھ روز کے دوران 14 ہزار افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جا چکے ہیں، تاہم یہ عمل مشکلات سے بھرپور ہے۔ طورخم بارڈر اور ملحقہ چیک پوسٹوں  پر رجسٹریشن اور کلیئرنس میں سست روی کے باعث مہاجرین کو گھنٹوں بلکہ بعض اوقات پورا دن انتظار کرنا پڑتا ہے۔

 

عینی شاہدین کے مطابق خواتین، بچے اور بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جو طویل قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔ کئی خاندان کھلے آسمان تلے وقت گزار رہے ہیں جبکہ پینے کے صاف پانی اور محفوظ جگہوں کی بھی شدید کمی ہے۔

 

سماجی کارکنان نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے مزید سانحات  پیش آ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق واپسی کے عمل کو منظم، تیز اور انسانی بنیادوں پر استوار کرنا ناگزیر ہے۔

 

دوسری جانب حکام کا مؤقف ہے کہ عمل کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث مشکلات درپیش ہیں۔ عوامی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ افغان مہاجرین کی واپسی کو محض انتظامی عمل نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ سمجھتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔